@import url('https://fonts.googleapis.com/css2?family=Noto+Nastaliq+Urdu:wght@400;700&display=swap'); #static-story-widget { font-family: 'Noto Nastaliq Urdu', serif; background-color: #f3f4f6; border: 1px solid #d1d5db; border-radius: 12px; max-width: 100%; margin: 20px auto; direction: rtl; text-align: right; box-shadow: 0 10px 25px rgba(0,0,0,0.1); } /* Header */ .ssw-header { background: #1f2937; color: white; padding: 25px; text-align: center; border-radius: 12px 12px 0 0; border-bottom: 5px solid #10b981; } .ssw-header h2 { margin: 0; font-size: 2rem; font-weight: bold; } .ssw-header p { margin: 8px 0 0; color: #9ca3af; font-size: 1rem; } /* Grid Layout */ .ssw-grid { display: grid; grid-template-columns: 1fr 1fr; gap: 20px; padding: 20px; } @media (max-width: 768px) { .ssw-grid { grid-template-columns: 1fr; } } /* Card Design */ .ssw-card { background: #fff; border-radius: 10px; overflow: hidden; border: 1px solid #e5e7eb; box-shadow: 0 2px 5px rgba(0,0,0,0.05); cursor: pointer; transition: transform 0.2s, box-shadow 0.2s; display: flex; flex-direction: column; } .ssw-card:hover { transform: translateY(-5px); box-shadow: 0 10px 20px rgba(0,0,0,0.1); } .ssw-card.active { border: 2px solid #10b981; background-color: #ecfdf5; } /* Image Area */ .img-box { height: 200px; width: 100%; background: #000; position: relative; } .story-img { width: 100%; height: 100%; object-fit: cover; opacity: 0.9; } /* Content Body */ .ssw-body { padding: 15px; } .ssw-title { font-size: 1.2rem; font-weight: bold; color: #111827; margin-bottom: 5px; line-height: 1.6; } .ssw-meta { font-size: 0.85rem; color: #6b7280; font-family: sans-serif; display: flex; justify-content: space-between; } /* Status Badge */ .status-badge { margin-top: 10px; padding: 5px; background: #d1fae5; color: #065f46; font-size: 0.8rem; font-weight: bold; text-align: center; border-radius: 4px; display: none; } .ssw-card.active .status-badge { display: block; } /* Controls */ .ssw-controls { display: none; gap: 10px; padding: 15px; border-top: 1px solid #e5e7eb; background: #f9fafb; } .ssw-card.active .ssw-controls { display: flex; } .ssw-btn { flex: 1; border: none; padding: 10px; border-radius: 6px; color: white; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu', serif; font-size: 0.9rem; cursor: pointer; } .btn-pause { background: #f59e0b; } .btn-resume { background: #10b981; display: none; } .btn-stop { background: #ef4444; } ایم۔اے لیول مکمل کہانیاں 35 تفصیلی کہانیاں | آڈیو اور میوزک کے ساتھ // --- 1. SETUP --- let synth = window.speechSynthesis; let currentUtterance = null; let activeIndex = -1; let resumeInterval = null; let bgAudio = document.getElementById('bg-audio-static'); // Music Links const musicLib = { horror: 'https://www.soundhelix.com/examples/mp3/SoundHelix-Song-8.mp3', sad: 'https://www.soundhelix.com/examples/mp3/SoundHelix-Song-16.mp3', happy: 'https://www.soundhelix.com/examples/mp3/SoundHelix-Song-1.mp3' }; // --- 2. 35 COMPLETE STORIES (EXTENDED TEXT) --- const stories = [ { title: "1. ویران حویلی کا راز", keywords: "haunted,house", mood: "horror", meta: "سبق: مکافاتِ عمل", text: "یہ دسمبر کی ایک سرد اور طوفانی رات تھی۔ سرور صاحب اپنی گاڑی میں سفر کر رہے تھے کہ جنگل میں گاڑی خراب ہو گئی۔ انہیں سامنے ایک پرانی حویلی نظر آئی۔ جیسے ہی وہ اندر گئے، دروازہ خود بخود بند ہو گیا۔ اندر ایک میز پر ڈائری پڑی تھی جس پر لکھا تھا: 'جو یتیم کا مال کھاتا ہے وہ یہاں سے زندہ واپس نہیں جاتا۔' سرور صاحب ڈر گئے کیونکہ انہوں نے اپنے بھتیجے کی جائیداد ہڑپ کی تھی۔ تبھی دیواروں سے عجیب آوازیں آنے لگیں اور انہیں اپنے گناہوں کا احساس ہوا۔ وہ چیخنے لگے لیکن مکافات عمل شروع ہو چکا تھا۔ اگلی صبح لوگوں نے ان کی لاش وہیں پائی۔ ان کا چہرہ خوف سے بگڑا ہوا تھا۔ یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ ظلم کا بدلہ دنیا میں ہی مل جاتا ہے، چاہے انسان کتنے ہی مضبوط قلعوں میں چھپ جائے۔" }, { title: "2. آخری ٹرین کا مسافر", keywords: "train,night", mood: "sad", meta: "سبق: ضمیر کی آواز", text: "زاہد نے اپنی کمپنی سے پچاس لاکھ روپے چوری کیے اور رات کے اندھیرے میں ریلوے اسٹیشن پہنچا۔ وہ آخری ٹرین میں سوار ہوا جو بالکل خالی تھی۔ اچانک اس کے سامنے ایک بوڑھا شخص آ کر بیٹھ گیا۔ بوڑھے نے اس کی طرف دیکھ کر کہا: 'بیٹا! تم پولیس سے تو بھاگ سکتے ہو لیکن اپنے ضمیر سے کیسے بھاگو گے؟' زاہد نے دیکھا تو بوڑھے کا سایہ نہیں تھا۔ وہ خوف سے بے ہوش ہو گیا۔ جب ہوش آیا تو وہ تھانے میں تھا۔ اس نے جان لیا کہ سکون پیسے میں نہیں بلکہ ایمانداری میں ہے۔" }, { title: "3. آئینے کا قیدی", keywords: "mirror,reflection", mood: "horror", meta: "سبق: غرور کا انجام", text: "سکندر بہت خوبصورت لیکن انتہائی مغرور نوجوان تھا۔ ایک دن وہ ایک قدیم آئینہ خرید لایا۔ رات کو جب اس نے آئینے میں دیکھا تو اس کا عکس رو رہا تھا جبکہ وہ خود ہنس رہا تھا۔ آہستہ آہستہ عکس نے ہاتھ بڑھایا اور سکندر کا گلا دبوچنے لگا۔ سکندر کا غرور خاک میں مل گیا۔ اسے فالج ہو گیا اور اس کی خوبصورتی ختم ہو گئی۔ یہ قدرت کا سبق تھا کہ ظاہری حسن فانی ہے اور غرور کا سر ہمیشہ نیچا ہوتا ہے۔" }, { title: "4. گمشدہ گھڑی کی لعنت", keywords: "gold,watch", mood: "horror", meta: "سبق: چوری کا انجام", text: "عالیہ نے اپنی سہیلی کی سونے کی گھڑی چرائی اور خوشی خوشی گھر آ گئی۔ رات کو اسے اپنے کمرے میں 'ٹک ٹک' کی آوازیں ہتھوڑوں کی طرح سنائی دینے لگیں۔ اسے ہر سائے میں پولیس نظر آنے لگی۔ وہ نفسیاتی مریض بن گئی اور تین دن تک سو نہ سکی۔ آخر کار اس نے گھڑی واپس کر دی اور معافی مانگی۔ تب جا کر اسے سکون ملا۔ حرام کا مال انسان کا چین چھین لیتا ہے۔" }, { title: "5. انجان سایہ", keywords: "forest,snake", mood: "horror", meta: "سبق: غداری کی سزا", text: "نوید نے اپنے کاروباری پارٹنر کاشف کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ وہ اسے بہانے سے جنگل لے گیا۔ جیسے ہی اس نے بندوق نکالی، جھاڑیوں سے ایک شیر نکل آیا۔ کاشف درخت پر چڑھ گیا لیکن نوید نیچے رہ گیا۔ شیر نے نوید پر حملہ کر دیا۔ کاشف نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر نوید کو بچایا۔ نوید شرم سے پانی پانی ہو گیا کہ جسے وہ مارنے آیا تھا اسی نے اس کی جان بچائی۔" }, { title: "6. خاموش گواہ", keywords: "river,pollution", mood: "sad", meta: "سبق: خدا کی پکڑ", text: "فیکٹری مالک مجید دریا میں زہریلا کیمیکل پھینکتا تھا تاکہ پیسے بچا سکے۔ ایک دن اس کا اپنا اکلوتا بیٹا اسی دریا کی مچھلی کھا کر شدید بیمار ہو گیا۔ ڈاکٹروں نے کہا اس کے خون میں زہر پھیل چکا ہے۔ مجید روتا رہا کہ اس کے اپنے گناہ نے اس کے بیٹے کی جان لے لی۔ قدرت خاموش رہتی ہے لیکن جب بدلہ لیتی ہے تو انسان کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملتا۔" }, { title: "7. کٹھ پتلی کا انتقام", keywords: "puppet,doll", mood: "horror", meta: "سبق: فن کی قدر", text: "جاوید نے اپنے استاد کی نایاب کٹھ پتلیاں چوری کیں اور شہر جا کر بیچنے کا سوچا۔ رات کو ہوٹل کے کمرے میں اسے لگا کہ کٹھ پتلیاں زندہ ہو گئی ہیں۔ وہ چھوٹی چھوٹی کٹھ پتلیاں اس کے بستر پر چڑھ گئیں اور اسے ڈرانے لگیں۔ جاوید خوف کے مارے کھڑکی سے نیچے گر گیا اور اپاہج ہو گیا۔ چوری اور استاد کی نافرمانی نے اسے تباہ کر دیا۔" }, { title: "8. تیسری آنکھ", keywords: "computer,hacker", mood: "happy", meta: "سبق: اللہ دیکھ رہا ہے", text: "عمران ایک ہیکر تھا جو لوگوں کے بینک اکاؤنٹ خالی کرتا تھا۔ اسے لگتا تھا اسے کوئی نہیں پکڑ سکتا۔ ایک دن اس کے کمپیوٹر اسکرین پر ایک آنکھ بنی ہوئی آئی اور لکھا تھا 'اللہ دیکھ رہا ہے'۔ اسی لمحے پولیس نے اس کے گھر چھاپہ مارا۔ جیل کی تنہائی میں اس نے توبہ کی اور سمجھ گیا کہ انسان ٹیکنالوجی کے پیچھے چھپ سکتا ہے مگر خدا کی ذات سے نہیں۔" }, { title: "9. قبرستان کا راستہ", keywords: "graveyard,night", mood: "horror", meta: "سبق: اوہام پرستی", text: "وقار نے دوستوں سے شرط لگائی کہ وہ آدھی رات کو قبرستان میں جا کر ایک قبر کے پاس کیل ٹھونکے گا۔ وہ وہاں گیا اور اندھیرے میں جلدی سے کیل ٹھونکی۔ جب اٹھنے لگا تو اسے لگا کسی مردے نے اس کا دامن پکڑ لیا ہے۔ وہ خوف سے وہیں مر گیا۔ صبح پتہ چلا کہ اس نے کیل اپنے کرتے کے دامن پر ہی ٹھونک لی تھی جس وجہ سے وہ اٹھ نہیں پا رہا تھا۔ بے جا خوف جان لیوا ہوتا ہے۔" }, { title: "10. بند کمرے کا راز", keywords: "locked,door", mood: "horror", meta: "سبق: شک کا علاج نہیں", text: "دانیال کو شک تھا کہ اس کی بیوی اسے زہر دینا چاہتی ہے۔ اس نے کھانا پینا چھوڑ دیا اور خود کو کمرے میں بند کر لیا۔ بھوک اور پیاس سے وہ پاگل ہو گیا۔ جب دروازہ توڑا گیا تو وہ دیواروں سے باتیں کر رہا تھا۔ شک ایک ایسی بیماری ہے جس کا کوئی علاج نہیں اور یہ ہنستے بستے گھر کو برباد کر دیتی ہے۔" }, { title: "11. جعلی شناختی کارڈ", keywords: "passport,airport", mood: "sad", meta: "سبق: جھوٹ کی بنیاد", text: "فہیم نے یورپ جانے کے لیے لاکھوں روپے دے کر جعلی کاغذات بنوائے۔ وہ ایئرپورٹ پر بہت خوش تھا لیکن امیگریشن پر وہ پکڑا گیا۔ اسے جیل بھیج دیا گیا۔ اس کی ساری جمع پونجی ضائع ہو گئی اور معاشرے میں بدنامی الگ ہوئی۔ اس نے سیکھا کہ کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا، سچائی ہی نجات کا راستہ ہے۔" }, { title: "12. ضمیر کی عدالت", keywords: "court,gavel", mood: "sad", meta: "سبق: سچ کی جیت", text: "ایک جج نے اپنے دوست کے بیٹے کو بچانے کے لیے غلط فیصلہ دیا اور ایک بے گناہ کو سزا سنا دی۔ کچھ سال بعد جج کا اپنا بیٹا ایک جھوٹے مقدمے میں پھنس گیا۔ جج کو اپنا پرانا گناہ یاد آیا۔ اس نے اللہ سے معافی مانگی اور عہد کیا کہ اب ہمیشہ انصاف کرے گا۔ تب جا کر اس کی مشکل حل ہوئی۔ دنیا مکافات عمل ہے۔" }, { title: "13. دیوار کے پیچھے", keywords: "brick,wall", mood: "horror", meta: "سبق: گناہ چھپتا نہیں", text: "امجد نے ایک پرانا گھر خریدا۔ رات کو اسے دیوار کے پیچھے سے رونے کی آوازیں آتیں۔ اس نے دیوار تڑوائی تو وہاں ایک انسانی ڈھانچہ ملا۔ پولیس کی تفتیش سے پتہ چلا کہ پچھلے مالک نے قتل کر کے لاش وہاں چھپائی تھی۔ گناہ زمین کے سات پردوں میں بھی چھپایا جائے تو ایک دن بول پڑتا ہے۔ خون کبھی نہیں چھپتا۔" }, { title: "14. ان دیکھی زنجیریں", keywords: "chains,feet", mood: "sad", meta: "سبق: حرام کی کمائی", text: "سیٹھ راشد کے پاس دولت کے انبار تھے لیکن وہ چلنے پھرنے سے قاصر تھا۔ ڈاکٹروں کو کوئی بیماری سمجھ نہیں آتی تھی۔ دراصل اس نے یتیموں اور بیواؤں کا مال کھایا تھا جو ان دیکھی زنجیریں بن کر اس کے پاؤں میں پڑا تھا۔ جب اس نے تمام لوگوں کا حق واپس کیا تب جا کر اسے شفا ملی۔ حرام مال جسم اور روح کو بیمار کر دیتا ہے۔" }, { title: "15. آخری وصیت", keywords: "coffin,funeral", mood: "sad", meta: "سبق: دنیا فانی ہے", text: "ایک ارب پتی باپ نے مرتے وقت وصیت کی کہ مجھے میرے پرانے پھٹے ہوئے موزوں کے ساتھ دفنایا جائے۔ لیکن علماء نے اجازت نہ دی۔ بیٹوں کو باپ کا آخری خط ملا جس میں لکھا تھا: 'دیکھو بیٹا! میں اتنی دولت کے باوجود اپنے پرانے موزے بھی ساتھ نہیں لے جا سکا۔ تم کس بات پر غرور کرتے ہو؟' یہ بات بیٹوں کے دل پر لگی۔" }, { title: "16. زہر کا پیالہ", keywords: "poison,glass", mood: "sad", meta: "سبق: جیسا کرو گے ویسا بھرو گے", text: "دو دوستوں میں دشمنی ہو گئی۔ ایک نے دوسرے کو مارنے کے لیے شربت میں زہر ملایا۔ اتفاق سے بجلی چلی گئی اور پیالے بدل گئے۔ جس نے زہر ملایا تھا اس نے خود ہی وہ شربت پی لیا اور وہیں ڈھیر ہو گیا۔ جو دوسروں کے لیے گڑھا کھودتا ہے وہ سب سے پہلے خود اس میں گرتا ہے۔" }, { title: "17. ادھوری تصویر", keywords: "painting,art", mood: "happy", meta: "سبق: ناشکری", text: "ایک مصور دنیا کی بہترین تصویر بنانا چاہتا تھا مگر اسے ہر تصویر میں نقص نظر آتا۔ وہ مایوس ہو گیا۔ ایک فقیر نے اسے کہا: 'کمال صرف اللہ کی ذات ہے۔ اپنی نعمتوں پر شکر کرو۔' جب اس نے شکر کرنا سیکھا تو اسے اپنی ادھوری تصویروں میں بھی حسن نظر آنے لگا۔ شکرگزاری سکون کا واحد راستہ ہے۔" }, { title: "18. پرانی کتاب", keywords: "old,book", mood: "happy", meta: "سبق: علم کی قدر", text: "کاشف نے ردی میں اپنے باپ کی پرانی کتابیں بیچ دیں تاکہ کچھ پیسے مل سکیں۔ بعد میں اسے پتہ چلا کہ باپ نے سب سے پرانی کتاب میں ہیرے چھپائے تھے تاکہ برے وقت میں کام آئیں۔ کاشف نے سر پیٹ لیا۔ اس نے علم کی قدر نہیں کی تھی اس لیے دولت بھی ہاتھ سے گئی۔ بزرگوں کی نشانیوں کی قدر کرنی چاہیے۔" }, { title: "19. کالی بلی کا وہم", keywords: "black,cat", mood: "horror", meta: "سبق: کمزور ایمان", text: "حامد جا رہا تھا کہ کالی بلی نے راستہ کاٹ لیا۔ وہ وہم کا شکار ہو کر الٹے قدموں بھاگا اور پیچھے سے آنے والی گاڑی سے ٹکرا گیا۔ بلی نے اس کا کچھ نہیں بگاڑا تھا، بلکہ اس کے اپنے کمزور ایمان اور توہم پرستی نے اسے نقصان پہنچایا۔ نفع اور نقصان کا مالک صرف اللہ ہے۔" }, { title: "20. امانت میں خیانت", keywords: "diamonds,jewels", mood: "happy", meta: "سبق: دیانتداری", text: "ایک شخص نے اپنے دوست کے پاس ہیروں کا بیگ امانت رکھوایا۔ دوست کے دل میں لالچ آ گیا لیکن پھر اسے خدا کا خوف آیا۔ جب اس نے بیگ واپس کیا تو دوست نے بتایا کہ یہ نقلی ہیرے تھے۔ میں تمہاری ایمانداری آزما رہا تھا۔ اب یہ اصلی ہیروں کا بیگ تمہارا انعام ہے۔ دیانتداری بہترین حکمت عملی ہے۔" }, { title: "21. پرانا ٹائپ رائٹر", keywords: "typewriter,antique", mood: "horror", meta: "سبق: تقدیر کا لکھا", text: "عاطف ایک پرانی دکان سے ٹائپ رائٹر لایا۔ وہ اس پر جو لکھتا وہ سچ ہو جاتا۔ اس نے لالچ میں لکھا 'مجھے دولت ملے'۔ دولت تو ملی لیکن ساتھ ہی لاعلاج بیماری بھی مل گئی۔ اس نے ٹائپ رائٹر توڑ دیا اور سمجھ گیا کہ انسان کو اپنی تقدیر سے چھیڑ چھاڑ نہیں کرنی چاہیے، جو خدا نے لکھا ہے وہی بہتر ہے۔" }, { title: "22. خاموش مسافر", keywords: "bus,night", mood: "horror", meta: "سبق: موت کا وقت", text: "بس میں ایک مسافر چڑھا جو بالکل خاموش تھا۔ کنڈکٹر نے اس سے کرایہ مانگا تو اس نے برف جیسے ٹھنڈے ہاتھ بڑھائے۔ کنڈکٹر ڈر گیا۔ اگلے اسٹاپ پر وہ مسافر غائب ہو گیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ اسی سیٹ پر کل ایک شخص کا انتقال ہوا تھا۔ زندگی اور موت کا فاصلہ بہت کم ہے، انسان کو ہر وقت تیار رہنا چاہیے۔" }, { title: "23. لالچی حکیم", keywords: "medicine,doctor", mood: "sad", meta: "سبق: انسانیت کی خدمت", text: "ایک حکیم کے پاس نایاب دوا تھی۔ وہ اسے مہنگے داموں بیچتا اور غریبوں کو دھتکار دیتا۔ ایک دن اس کا اپنا بیٹا بیمار ہوا۔ اسے وہی دوا چاہیے تھی لیکن دوا کی شیشی ٹوٹ گئی۔ وہ چیختا رہا لیکن دوا نہ ملی اور بیٹا مر گیا۔ اگر وہ غریبوں کی مدد کرتا تو شاید آج اس کی دعا کام آ جاتی۔" }, { title: "24. بند صندوق", keywords: "old,chest", mood: "horror", meta: "سبق: راز کی حفاظت", text: "دادا جان نے وصیت کی تھی کہ حویلی کے تہہ خانے کا صندوق کبھی نہ کھولنا۔ پوتے نے لالچ میں آ کر تالا توڑ دیا۔ اندر سے زہریلی گیس نکلی جس نے اسے ہمیشہ کے لیے بیمار کر دیا۔ صندوق میں کوئی خزانہ نہیں تھا بلکہ پرانی کیمیکل کی بوتلیں تھیں۔ بڑوں کی نصیحت میں ہمیشہ بہتری ہوتی ہے۔" }, { title: "25. تصویر کا سایہ", keywords: "scary,painting", mood: "horror", meta: "سبق: ماضی کا پچھتاوا", text: "حمزہ نے ایک پرانی پینٹنگ خریدی۔ رات کو اسے پینٹنگ میں موجود سایہ ہلتا ہوا دکھائی دیتا۔ اسے لگا کہ وہ سایہ باہر نکل رہا ہے۔ وہ خوف سے گھر چھوڑ کر بھاگ گیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ اس کا اپنا وہم اور سایہ تھا جو لائٹ کی وجہ سے ہل رہا تھا۔ کمزور دل اور وہم انسان کی زندگی اجیرن کر دیتے ہیں۔" }, { title: "26. فرسودہ پل", keywords: "broken,bridge", mood: "happy", meta: "سبق: خدمت خلق", text: "گاؤں کے باہر ایک ٹوٹا ہوا پل تھا۔ ایک بوڑھا شخص روزانہ وہاں کھڑا ہو کر لوگوں کو احتیاط سے گزارتا تھا۔ ایک امیر نوجوان نے اس کا مذاق اڑایا۔ واپسی پر اسی نوجوان کی گاڑی پل سے پھسلنے لگی تو اسی بوڑھے نے اپنی جان پر کھیل کر اسے بچایا۔ نوجوان نے بوڑھے کے پاؤں پکڑ لیے۔ خدمت کرنے والا ہی اصل سردار ہوتا ہے۔" }, { title: "27. بزرگ کی وصیت", keywords: "sticks,wood", mood: "happy", meta: "سبق: اتحاد میں برکت", text: "ایک مرتے ہوئے بزرگ نے اپنے چار بیٹوں کو لکڑیوں کا گٹھا دیا۔ کوئی بھی اسے توڑ نہ سکا۔ پھر انہوں نے الگ الگ لکڑیاں دیں جو سب نے آسانی سے توڑ دیں۔ بزرگ نے کہا: 'اگر تم الگ رہو گے تو دنیا تمہیں توڑ دے گی، اگر اکٹھے رہو گے تو کوئی تمہارا مقابلہ نہیں کر سکتا۔' بیٹوں نے اتحاد کا وعدہ کیا۔" }, { title: "28. بھوکا مہمان", keywords: "dinner,food", mood: "happy", meta: "سبق: مہمان نوازی", text: "ایک غریب گھرانے میں رات کو مہمان آیا۔ کھانا کم تھا۔ میاں بیوی نے چراغ بجھا دیا اور خود خالی منہ ہلاتے رہے تاکہ مہمان سمجھے وہ بھی کھا رہے ہیں۔ صبح مہمان غائب تھا لیکن ان کے گھر اناج کی بوریاں پڑی تھیں۔ وہ مہمان دراصل ایک فرشتہ تھا جو ان کا امتحان لینے آیا تھا۔ اللہ سخاوت کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔" }, { title: "29. حسد کی آگ", keywords: "fire,house", mood: "sad", meta: "سبق: حسد کا انجام", text: "ایک شخص اپنے پڑوسی سے بہت حسد کرتا تھا۔ اس نے جادوگر سے کہا کہ پڑوسی کا سب کچھ برباد ہو جائے چاہے میرا بھی نقصان ہو۔ جادوگر نے کہا ٹھیک ہے لیکن جو نقصان پڑوسی کا ہوگا اس سے دگنا تمہارا ہوگا۔ حاسد نے کہا 'ٹھیک ہے، پڑوسی کی ایک آنکھ پھوڑ دو'۔ نتیجہ یہ ہوا کہ حاسد کی دونوں آنکھیں پھوٹ گئیں۔" }, { title: "30. ادھار کی زندگی", keywords: "money,wallet", mood: "sad", meta: "سبق: فضول خرچی", text: "عاصم دکھاوے کے لیے ادھار لے کر مہنگے کپڑے اور گاڑیاں خریدتا تھا۔ لوگ اس کی دولت سے متاثر تھے۔ ایک دن قرض خواہوں نے اسے بازار میں پکڑ لیا اور سرعام بے عزت کیا۔ اس کی ساری عزت خاک میں مل گئی۔ تب اسے سمجھ آئی کہ چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے چاہییں۔ ادھار کی شان و شوکت ذلت کا باعث بنتی ہے۔" }, { title: "31. ماں کی دعا", keywords: "mother,praying", mood: "happy", meta: "سبق: والدین کی اطاعت", text: "ایک نوجوان بہت محنت کرتا تھا مگر کامیاب نہیں ہوتا تھا۔ وہ مایوس ہو کر ایک بزرگ کے پاس گیا۔ بزرگ نے کہا 'ماں سے دعا کرواؤ'۔ لڑکے نے گھر جا کر ماں کے پیر دبائے اور معافی مانگی۔ ماں نے دل سے دعا دی۔ اگلے ہی دن اسے وہ نوکری مل گئی جس کے لیے وہ سالوں سے بھٹک رہا تھا۔ ماں کی دعا تقدیر بدل دیتی ہے۔" }, { title: "32. تکبر کا انجام", keywords: "wrestler,strong", mood: "happy", meta: "سبق: عاجزی", text: "ایک پہلوان کو اپنی طاقت پر بہت ناز تھا۔ ایک دن راستے میں ایک چھوٹی سی چیونٹی اس کے کان میں گھس گئی۔ پہلوان درد سے تڑپنے لگا اور زمین پر لوٹ پوٹ ہو گیا۔ بڑے بڑے ڈاکٹر کچھ نہ کر سکے۔ آخر ایک عام آدمی نے پانی ڈال کر چیونٹی نکالی۔ پہلوان کو سمجھ آ گئی کہ اللہ ادنیٰ سی مخلوق سے بھی طاقتور کو عاجز کر سکتا ہے۔" }, { title: "33. پوشیدہ خزانہ", keywords: "farm,field", mood: "happy", meta: "سبق: محنت", text: "ایک کسان نے مرتے وقت بیٹوں سے کہا کہ کھیت میں خزانہ دبا ہے۔ بیٹوں نے سارا کھیت کھود مارا مگر سونا نہ ملا۔ مایوس ہو کر انہوں نے وہاں بیج بو دیے۔ فصل اتنی شاندار ہوئی کہ انہوں نے بہت منافع کمایا۔ تب انہیں باپ کی بات سمجھ آئی کہ اصل خزانہ محنت ہے، سونا چاندی نہیں۔ محنت کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔" }, { title: "34. جھوٹی گواہی", keywords: "court,witness", mood: "sad", meta: "سبق: سچائی", text: "عدالت میں ایک شخص نے پیسوں کے لیے جھوٹی گواہی دی جس سے ایک بے گناہ کو سزا ہو گئی۔ کچھ عرصے بعد گواہ کا اپنا بیٹا کسی جرم میں پھنس گیا۔ گواہ روتا رہا کہ میرا بیٹا بے گناہ ہے، لیکن کسی نے یقین نہیں کیا۔ تب اسے یاد آیا کہ اس نے بھی کسی کے بے گناہ بیٹے کو مروایا تھا۔ قدرت کا انصاف اٹل ہے۔" }, { title: "35. سفید جھوٹ", keywords: "phone,call", mood: "sad", meta: "سبق: اعتماد", text: "باسط اپنی بیوی سے چھوٹی چھوٹی باتوں پر سفید جھوٹ بولتا تھا۔ بیوی کو لگتا تھا وہ سچ بول رہا ہے۔ ایک دن باسط کو دل کا دورہ پڑا۔ اس نے بیوی کو فون کیا لیکن بیوی سمجھی وہ مذاق کر رہا ہے۔ وہ دیر سے پہنچی اور باسط کا بہت نقصان ہو گیا۔ رشتوں میں اعتماد کانچ کی طرح ہوتا ہے، ایک بار ٹوٹ جائے تو نہیں جڑتا۔" } ]; // --- 3. UI GENERATION --- const container = document.getElementById('ssw-container'); stories.forEach((story, index) => { const card = document.createElement('div'); card.className = 'ssw-card'; card.id = `card-${index}`; // Fast & Relevant Image const imgUrl = `https://loremflickr.com/400/220/${story.keywords}/all?lock=${index}`; card.innerHTML = ` ${story.title} ${story.meta} 🔊 کہانی چل رہی ہے... ⏸ روکیں ▶ جاری رکھیں ⏹ بند کریں `; container.appendChild(card); }); // --- 4. LOGIC ENGINE --- function playStory(index) { if(index === activeIndex) return; stopStory(); activeIndex = index; const card = document.getElementById(`card-${index}`); card.classList.add('active'); // Music if(musicLib[stories[index].mood]) { bgAudio.src = musicLib[stories[index].mood]; bgAudio.volume = 0.15; bgAudio.play().catch(e => console.log(e)); } // TTS currentUtterance = new SpeechSynthesisUtterance(stories[index].text); currentUtterance.lang = 'ur-PK'; currentUtterance.rate = 0.9; currentUtterance.onend = function() { stopStory(); }; synth.speak(currentUtterance); // Anti-Freeze if(resumeInterval) clearInterval(resumeInterval); resumeInterval = setInterval(() => { if(synth.paused) synth.pause(); else synth.resume(); }, 10000); } function pauseStory(index) { if(synth.speaking && !synth.paused) { synth.pause(); bgAudio.pause(); document.getElementById(`pause-${index}`).style.display = 'none'; document.getElementById(`resume-${index}`).style.display = 'block'; document.getElementById(`status-${index}`).innerText = "⏸ رکا ہوا ہے"; } } function resumeStory(index) { if(synth.paused) { synth.resume(); bgAudio.play(); document.getElementById(`pause-${index}`).style.display = 'block'; document.getElementById(`resume-${index}`).style.display = 'none'; document.getElementById(`status-${index}`).innerText = "🔊 کہانی چل رہی ہے..."; } } function stopStory() { if(synth.speaking || synth.paused) synth.cancel(); bgAudio.pause(); bgAudio.currentTime = 0; activeIndex = -1; if(resumeInterval) clearInterval(resumeInterval); document.querySelectorAll('.ssw-card').forEach(c => c.classList.remove('active')); document.querySelectorAll('.btn-pause').forEach(b => b.style.display = 'block'); document.querySelectorAll('.btn-resume').forEach(b => b.style.display = 'none'); document.querySelectorAll('.status-badge').forEach(s => s.style.display = 'none'); }